بنگلورو،12/جنوری(ایس او نیوز) ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اشوتھ نارائن نے کہا ہے کہ شہر بنگلور میں 3لاکھ سے زائد غیر قانونی بنگلہ دیشی آباد ہیں جن کو این آر سی قانون کے ذریعے ملک بدر کیا جائے گا-شہر کے چترا کلا پریشد میں فوٹو گرافر سدیش شیٹی کی بنگلہ دیشی دراندازوں کے متعلق تصاویر کی نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے اشوتھ نارائن نے کہا کہ شہر بنگلورو میں 3لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی درانداز مقیم ہیں - انہوں نے کہا کہ یہ چھونپڑ پٹیوں میں رہتے ہیں اور بازاروں اور سڑک کے کنارے چیزیں فروخت کر کے گزر بسر کرتے یں - شہریت قانون کے تحت اگر ان تمام کے دستاویزات کی جانچ کی جائے تو ان کو ملک سے نکالنے میں آسانی ہو گی- انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کے پاس اگر شہریت کے متعلق دستاویزات نہ ہوں تو اس کو شہریت قانون کے مطابق بلامروت ملک بدر کیا جائے گا- انہوں نے کہا کہ ملک کے جن شہریوں کے پاس دستاویزات موجود ہیں ان کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں - شہریت قانو ن کی وجہ سے ان کی شہریت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- یہ قانون صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے آئے ہیں - ہندوستانیوں کے لئے اس قانون سے کوئی خطرہ نہیں - اس موقع پر ریاستی بی جے پی صدر نلن کمار کٹیل، تیجسونی اننت کمار او ر دیگر موجود تھے-نائب وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ کر کے کہ بنگلورو میں تین لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی درانداز ہیں یہ ثبوت بھی پیش کیا ہے کہ ریاست میں اگر واقعی اتنی بڑی تعداد میں در انداز داخل ہوئے ہیں تو ان کو روکنے میں حکومت بری طرح ناکام رہی ہے- اور اگر بنگلہ دیش یا کسی بھی ملک سے باشندے آکر شہر میں بسے ہوئے ہیں اور ملک میں ان کا داخلہ باضابطہ پاسپورٹ اور ویزا کی بنیاد پر ہو ا ہے تو پھر انہیں درانداز کیسے کہا جا سکتا - پاسپورٹ اور ویزا پر ملک میں داخل ہونے والے دراصل اس ملک کے مہمان ہوتے ہیں -